تب[2]

قسم کلام: اسم حاصل مصدر

معنی

١ - حرارت، گرمی، بخار  کچھ اجل ہی سے علاج تب فرقت ہو گا کارگریاں نہ عرق ہو گا نہ شربت ہو گا ٢ - طاقت، چمک، سوزش۔(فرہنگ عامرہ)

اشتقاق

فارسی زبان سے اردو میں آیا۔ 'تابیدن' مصدر سے حاصل مصدر 'تاب' کا مخفف ہے۔ اکثر شعری ضرورت کے تحت استعمال کیا جاتا ہے عام بول چال میں مستعمل نہیں۔ ١٨٧٤ء، میں "سحرالبیان" میں استعمال ہوا۔

اصل لفظ: تابیدن
جنس: مؤنث